Uncategorized
Dagh Dehlvi
اڑتی پھرتی ہے گو ہماری خاک
چھوڑ کر وہ گلی نہیں جاتی
دیکھ اس چشمِ مست کو زاہد
تجھ سے اتنی بھی پی نہیں جاتی؟
(داغ دہلوی)
اڑتی پھرتی ہے گو ہماری خاک
چھوڑ کر وہ گلی نہیں جاتی
دیکھ اس چشمِ مست کو زاہد
تجھ سے اتنی بھی پی نہیں جاتی؟
(داغ دہلوی)